7 اشعار

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

Yaro mujhe muaf rakho main nashe mein hoon

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

«یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوںاب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں

ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دوجام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں

مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچجو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں

یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مےیا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں

معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑےتم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں

بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھچلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں

نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جیجوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں

— میر تقی میر