5 اشعار

عمر بھر ہم رہے شرابی سے

Umar bhar ham rahe sharabi se

عمر بھر ہم رہے شرابی سے

«عمر بھر ہم رہے شرابی سے» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

عمر بھر ہم رہے شرابی سےدل پر خوں کی اک گلابی سے

جی ڈھا جائے ہے سحر سے آہرات گزرے گی کس خرابی سے

کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہےاس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

برقعہ اٹھتے ہی چاند سا نکلاداغ ہوں اس کی بے حجابی سے

کام تھے عشق میں بہت پر میرؔہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے

— میر تقی میر