7 اشعار

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت

Zakhm jhele dagh bhi khaye bahut

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت

«زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہتدل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت

جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیےہم تو اپنی اور سے آئے بہت

دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹکہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھےپر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

گر بکا اس شور سے شب کو ہے توروویں گے سونے کو ہم سایے بہت

وہ جو نکلا صبح جیسے آفتابرشک سے گل پھول مرجھائے بہت

میرؔ سے پوچھا جو میں عاشق ہو تمہو کے کچھ چپکے سے شرمائے بہت

— میر تقی میر