7 اشعار

اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا

Us ka khayal chashm se shab khwab le gaya

اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا

«اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیاقسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا

کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناکمژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

آوے جو مصطبہ میں تو سن لو کہ راہ سےواعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا

نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوشآیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا

میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیارویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا

احوال اس شکار زبوں کا ہے جائے رحمجس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا

منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئےشب ہم کو میرؔ پرتو مہتاب لے گیا

— میر تقی میر