8 اشعار

عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا

Ishq hamare khayal pada hai khwab gayi aaram gaya

عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا

«عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیاجی کا جانا ٹھہر رہا ہے صبح گیا یا شام گیا

عشق کیا سو دین گیا ایمان گیا اسلام گیادل نے ایسا کام کیا کچھ جس سے میں ناکام گیا

کس کس اپنی کل کو رووے ہجراں میں بے کل اس کاخواب گئی ہے تاب گئی ہے چین گیا آرام گیا

آیا یاں سے جانا ہی تو جی کا چھپانا کیا حاصلآج گیا یا کل جاوے گا صبح گیا یا شام گیا

ہائے جوانی کیا کیا کہیے شور سروں میں رکھتے تھےاب کیا ہے وہ عہد گیا وہ موسم وہ ہنگام گیا

گالی جھڑکی خشم و خشونت یہ تو سر دست اکثر ہیںلطف گیا احسان گیا انعام گیا اکرام گیا

لکھنا کہنا ترک ہوا تھا آپس میں تو مدت سےاب جو قرار کیا ہے دل سے خط بھی گیا پیغام گیا

نالۂ میرؔ سواد میں ہم تک دوشیں شب سے نہیں آیاشاید شہر سے اس ظالم کے عاشق وہ بدنام گیا

— میر تقی میر