9 اشعار

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

Jab rone baithta hoon tab kya kasar rahe hai

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

«جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہےرومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

آہ سحر کی میری برچھی کے وسوسے سےخورشید کے منہ اوپر اکثر سپر رہے ہے

آگہ تو رہیے اس کی طرز رہ و روش سےآنے میں اس کے لیکن کس کو خبر رہے ہے

ان روزوں اتنی غفلت اچھی نہیں ادھر سےاب اضطراب ہم کو دو دو پہر رہے ہے

آب حیات کی سی ساری روش ہے اس کیپر جب وہ اٹھ چلے ہے ایک آدھ مر رہے ہے

تلوار اب لگا ہے بے ڈول پاس رکھنےخون آج کل کسو کا وہ شوخ کر رہے ہے

در سے کبھو جو آتے دیکھا ہے میں نے اس کوتب سے ادھر ہی اکثر میری نظر رہے ہے

آخر کہاں تلک ہم اک روز ہو چکیں گےبرسوں سے وعدۂ شب ہر صبح پر رہے ہے

میرؔ اب بہار آئی صحرا میں چل جنوں کرکوئی بھی فصل گل میں نادان گھر رہے ہے

— میر تقی میر