9 اشعار

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے

Jin jin ko tha yeh ishq ka azar mar gaye

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے

«جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئےاکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے

ہوتا نہیں ہے اس لب نوخط پہ کوئی سبزعیسیٰ و خضر کیا سبھی یک بار مر گئے

یوں کانوں کان گل نے نہ جانا چمن میں آہسر کو پٹک کے ہم پس دیوار مر گئے

صد کارواں وفا ہے کوئی پوچھتا نہیںگویا متاع دل کے خریدار مر گئے

مجنوں نہ دشت میں ہے نہ فرہاد کوہ میںتھا جن سے لطف زندگی وے یار مر گئے

گر زندگی یہی ہے جو کرتے ہیں ہم اسیرتو وے ہی جی گئے جو گرفتار مر گئے

افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میںلگتے ہی اس کے ہاتھ کی تلوار مر گئے

تجھ سے دو چار ہونے کی حسرت کے مبتلاجب جی ہوئے وبال تو ناچار مر گئے

گھبرا نہ میرؔ عشق میں اس سہل زیست پرجب بس چلا نہ کچھ تو مرے یار مر گئے

— میر تقی میر