5 اشعار

شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت

She'r ke parde mein main ne gham sunaya hai bahut

شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت

«شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت» میر تقی میر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہتمرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت

بے سبب آتا نہیں اب دم بہ دم عاشق کو غشدرد کھینچا ہے نہایت رنج اٹھایا ہے بہت

وادی و کہسار میں روتا ہوں ڈاڑھیں مار ماردلبران شہر نے مجھ کو ستایا ہے بہت

وا نہیں ہوتا کسو سے دل گرفتہ عشق کاظاہراً غمگیں اسے رہنا خوش آیا ہے بہت

میرؔ گم گشتہ کا ملنا اتفاقی امر ہےجب کبھو پایا ہے خواہش مند پایا ہے بہت

— میر تقی میر