عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
کلام: مرزا غالب
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت تری شہرت ہی سہی
قطع کیجے نہ تعلق ہم سےکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت تری شہرت ہی سہی
قطع کیجے نہ تعلق ہم سےکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی