مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
کلام: مرزا غالب
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئےجوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کوعرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)
مہمان شاعر: مرزا غالب
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئےجوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کوعرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے
جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
دل آشفتگاں خال کنج دہن کےسویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
قصہ ابھی حجاب سےآگےنہیں بڑھا،میں" آپ"وہ "جناب"سےآگےنہیں بڑھا،
مدت ھوئی کتابِ محبت شروع کیے،لیکن پہلے باب سے آگے نہیں بڑھا،