8 اشعار

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں

Ab ye sochun to bhanwar zehn mein paD jaate hain

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں

«اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیںکیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں

کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دلزلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

موسم زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسےایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

اب کوئی کیا مرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گاتیز آندھی میں تو خیمہ بھی اکھڑ جاتے ہیں

شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگپتھروں میں بھی کبھی آئنے جڑ جاتی ہیں

سوچ کا آئنہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھچاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں

شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسیکچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں

وہ بھی کیا لوگ ہیں محسنؔ جو وفا کی خاطرخود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں