اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کلام: محسن بھوپالی
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیںکیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دلزلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی
مہمان شاعر: محسن بھوپالی
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیںکیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دلزلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہےہوس کا نام عشق ہے، طلب خودی کا نام ہے
نظر اداس، دل ملول، روح تشنہ کام ہےمگر لبوں پہ نغمۂ حیاتِ شاد کام ہے