7 اشعار

بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا

Be-sabab log badalte nahin maskan apna

بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا

«بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپناتم نے جلتے ہوئے دیکھا ہے نشیمن اپنا

کس کڑے وقت میں موسم نے گواہی مانگیجب گریبان ہی اپنا ہے نہ دامن اپنا

اپنے لٹ جانے کا الزام کسی کو کیا دوںمیں ہی تھا راہنما میں ہی تھا رہزن اپنا

کوئی ملتا ہے جو اس دور پر آشوب میں دوستمشورے دے کے بنا لیتے ہیں دشمن اپنا

جب بھی سچ بولتے بچوں پہ نظر پڑتی ہےیاد آ جاتا ہے بے ساختہ بچپن اپنا

یوں کیا کرتے ہیں لڑکوں کو نصیحت اکثرجیسے ہم نے نہ گزارا ہو لڑکپن اپنا

رنگ محفل کے لیے ہم نہیں بدلے محسنؔوہی انداز تخیل ہے وہی فن اپنا

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں