7 اشعار

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا

Zavya koi muqarrar nahin hone paata

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا

«زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتادائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پاتا

عمر مصروف کوئی لمحۂ فرصت ہو عطامیں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا

آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگردل وہ کافر ہے کہ پتھر نہیں ہونے پاتا

کیا اسے جبر مشیت کی عنایت سمجھوںجو عمل میرا مقدر نہیں ہونے پاتا

چشم پر آب سمو لیتی ہے آلام کی گردآئنہ دل کا مکدر نہیں ہونے پاتا

چادر عجز گھٹا دیتی ہے قامت میرامیں کبھی اپنے برابر نہیں ہونے پاتا

فن کے کچھ اور بھی ہوتے ہیں تقاضے محسنؔہر سخن گو تو سخن ور نہیں ہونے پاتا

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں