7 اشعار

چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری

Chahat mein kya duniya-dari ishq mein kaisi majboori

چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری

«چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوریلوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری

میں نے دل کی بات رکھی اور تو نے دنیا والوں کیمیری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری

روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکوکچی مٹی تو مہکے گی ہے مٹی کی مجبوری

ذات کدے میں پہروں باتیں اور ملیں تو مہر بلبجبر وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری

جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیںوقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری

اک آوارہ بادل سے کیوں میں نے سایہ مانگا تھامیری بھی یہ نادانی تھی اس کی بھی تھی مجبوری

مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسنؔہم نے ساری عمر نباہی اپنی پہلی مجبوری

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں