6 اشعار

سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ

Sehme sehme chalte phirte laashe jaise log

سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ

«سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگوقت سے پہلے مر جاتے ہیں کتنے ایسے لوگ

سر پر چڑھ کر بول رہے ہیں پودے جیسے لوگپیڑ بنے خاموش کھڑے ہیں کیسے کیسے لوگ

چڑھتا سورج دیکھ کے خوش ہیں کون نہیں سمجھائےتپتی دھوپ میں کمھلائیں گے غنچے جیسے لوگ

شب کے راج دلارو سوچو اپنا بھی انجامشب کا کیا ہے کاٹ ہی دیں گے جیسے تیسے لوگ

غم کا درماں سوچنے بیٹھے تھے جو رات گئےفکر فردا لے کر اٹھے بزم مے سے لوگ

محسنؔ اور بھی نکھرے گا ان شعروں کا مفہوماپنے آپ کو پہچانیں گے جیسے جیسے لوگ

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں