5 اشعار

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا

Ghalat the waade magar main yaqeen rakhta tha

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا

«غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھاوہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا

ہے تار تار مرے اعتماد کا دامنکِسے بتاؤں کہ میں بھی اِمین رکھتا تھا

اُتر گیا ہے رگوں میں مری لہُو بن کروہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا

گُزرنے والے نہ یُوں سرسری گُزر دل سےمکاں شِکستہ سہی، پر مکین رکھتا تھا

وہ عقلِ کُل تھا بھلا کِس کی مانتا محسنخیال خام پہ پُختہ یقین رکھتا تھا

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں