6 اشعار

لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے

Lafz to hon lab-e-izhar na rehne paaye

لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے

«لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائےاب سماعت پہ کوئی بار نہ رہنے پائے

کس طرح کے ہیں مکیں جن کی تگ و دو ہے یہیدر تو باقی رہیں دیوار نہ رہنے پائے

اس میں بھی پہلوئے تسکین نکل آتا ہےایک ہی صورت آزار نہ رہنے پائے

ذہن تا ذہن مہکتا ہی رہے زخم ہنرفصل حرف و لب اظہار نہ رہنے پائے

اب کے موسم میں یہ معیار جنوں ٹھہرا ہےسر سلامت رہیں دستار نہ رہنے پائے

کوئی درماں کہ ہوا چیخ رہی ہے محسنؔنخل ہستی پہ کوئی بار نہ رہنے پائے

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں