6 اشعار

بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا

Be-khabar sa tha magar sab ki khabar rakhta tha

بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا

«بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا» محسن بھوپالی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے محسن بھوپالی» میں 9 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھاچاہے جانے کے سبھی عیب و ہنر رکھتا تھا

لا تعلق نظر آتا تھا بظاہر لیکنبے نیازانہ ہر اک دل میں گزر رکھتا تھا

اس کی نفرت کا بھی معیار جدا تھا سب سےوہ الگ اپنا اک انداز نظر رکھتا تھا

بے یقینی کی فضاؤں میں بھی تھا حوصلہ مندشب پرستوں سے بھی امید سحر رکھتا تھا

مشورے کرتے ہیں جو گھر کو سجانے کے لیےان سے کس طرح کہوں میں بھی تو گھر رکھتا تھا

اس کے ہر وار کو سہتا رہا ہنس کر محسنؔیہ تأثر نہ دیا میں بھی سپر رکھتا تھا

— محسن بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں