23 اشعار

الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے

Ilham ki rim jhim kahin bakhshish ki ghata hai

الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے

«الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 54 سیکنڈ ہے۔

الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہےیہ دل کا نگرہے کہ مدینے کی فضا ہے

سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاںکلیوں کے کٹوروں پہ ترا نام لکھا ہے

آیات کی جھرمٹ میں ترے نام کی مسندلفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جڑا ہے

اب کو ن حدِ حسن طلب سوچ سکے گاکونین کی وسعت تو تہہ دستِ دعا ہے

ہے تیری کسسک میں بھی دمک حشر کے دن کیوہ یوں کہ مرا قریہ جاں گونج اُٹھا ہے

خورشید تری راہ میں بھٹکتا ہوا جگنومہتاب ترا ریزہ نقشِ کفِ پا ہے

واللیل ترے سایہ گیسو کا تراشاوالعصر تری نیم نگاہی کی ادا ہے

لمحوں میں سمٹ کر بھی ترا درد ہے تازہصدیوں میں بھی بکھر کر ترا عشق نیا ہے

یا تیرے خدوخال سے خیرہ مہ و انجمیا دھوپ نے سایہ ترا خود اُوڑھ لیا ہے

یا رات نے پہنی ہے ملاحت تری تن پریا دن ترے اندازِ صباحت پہ گیا ہے

رگ رگ نے سمیٹی ہے ترے نام کی فریادجب جب بھی پریشان مجھے دنیا نے کیا ہے

خالق نے قسم کھائی ہے اُس شہر اماں کیجس شہر کی گلیوں نے تجھے ورد کیا ہے

اِک بار ترا نقشِ قدم چوم لیا تھااب تک یہ فلک شکر کے سجدے میں جھکا ہے

دل میں ہو تری یاد تو طوفاں بھی کنارہحاصل ہو ترا لطف تو صرصر بھی صبا ہے

غیروں پہ بھی الطاف ترے سب سے الگ تھےاپنوں پہ بھی نوازش کا انداز جدا ہے

ہر سمت ترے لطف و عنایت کی بارشہر سو ترا دامانِ کرم پھیل گیا ہے

ہے موجِ صبا یا ترے سانسوں کی بھکارنہے موسم گل یا تری خیراتِ قبا ہے

سورج کو اُبھرنے نہیں دیتا ترا حبشیبے زر کو ابوذر تیری بخشش نے کیا ہے

ثقلین کی قسمت تری دہلیز کا صدقہعالم کا مقدر ترے ہاتھوں پہ لکھا ہے

اُترے کا کہاں تک کوئی آیات کی تہہ میںقرآن تری خاطر ابھی مصروفِ ثنا ہے

اب اور بیاں کیا ہوکسی سے تیری مدحتیہ کم تو نہیں ہے کہ تو محبوبِ خدا ہے

اے گنبدِ خضرا کے مکین میری مدد کریا پھر یہ بتا کون میرا تیرے سوا ہے

بخشش تری آنکھوں کی طرف دیکھ رہی ہےمحسن ترے دربار میں چپ چاپ کھڑا ہے​

— محسن نقوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں