23 اشعار

میں تو کہتا تھا

Maiñ to kahtā thā

میں تو کہتا تھا

«میں تو کہتا تھا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔

میں تو کہتا تھامیری پرستش نہ کر

میری عُریاں ہتھیلی پہ پلکوں کے اندر چھُپی خواہشوں کے ستارے نہ چُنمیری قَسموں میں لپٹے ہوئے وصل وعدوں سے

اپنی حَسیں ریشمی چاہتوں کے کنارے نہ بُنمیرے لفظوں پہ مَت جا

کہ نا مُعتبر لفظ فصلِ خزاں کی ہوَا میں بکھرتے ہوئے زرد پتّوںکی آواز ہیں

میرے پاؤں کے تلوؤں پہ یاقوت و مرجاں سے ہونٹوںکے موتی نچھاور نہ کر

میں تو کہتا تھاجذبوں کی مُنہ زور آندھی کے رستے میں اتنے دیے مت جَلا

اپنی خواہش کے تپتے ہوُئے دشت میںبے جہت رقص کرتے بگولوں کی خالی ہتھیلی پہ

شفّاف خوابوں کے ریشم میں لپٹے ہوئے جُگنوؤں کےگُہر مت سجا

مت سَجا سازشی سوُرجوں کے مقابِل سُخن آئینےمیں تو کہتا تھا

چاہت کی ساری لکیریںسبھی ذائقے

سب رُتیںدُھوپ چھاؤں کے اندھے ادُھورے سفر سے اُبھرتی ہوُئی

گرد کی تہہ میں پوشیدہ منظر کےبنتے بگڑتے خد و خال کا

استعارہ سمجھگردشِ روزوشب کا اشارہ سمجھ

دیکھ اپنی جوانی کی جلتی ہوئی دوپہر میں کوئی خواب دیکھا نہ کرمیرے ہاتھوں کی یخ بستگی پہ سرِ شام

سوچا نہ کرمجھ سے اِتنی عقیدت بھی اچھی نہیں

میرے نزدیک آمیرے تن میں اُتر

میری بانھوں کے آنگن میں بکھری ہوئی دُھوپ میں بن سنورمجھ سے کیسا حذَر؟

مجھ کو ’’ اپنا ‘‘ سمجھمیرے نزدیک اپنائیت سے بڑا کوئی رشتہ نہیں

میری چاہت کو کوئی تقاضا سمجھمیرے اندر کا انساں فرشتہ نہیں

اور ابتیرے رُوٹھے ہوُئے لفظ

گجروں کے سُوکھے ہوُئے پھولآنکھوں میں بکھرے ہوئے آنسوؤں کے گُہر

تیرے معصوُم جذبوں کے سچ کی مُسلسل گواہی مگرمیں تو کہتا تھا میری پرستش نہ کر

میں تو کہتا تھامیری پرستش نہ کر

— محسن نقوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں