11 اشعار

جستجو میں تیری پھرتا ہوں نجانے کب سے؟

Justujū meñ terī phirtā hūñ na-jāne kab se?

جستجو میں تیری پھرتا ہوں نجانے کب سے؟

«جستجو میں تیری پھرتا ہوں نجانے کب سے؟» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

جستجو میں تیری پھرتا ہوں نجانے کب سے؟آبلہ پا ہیں مرے ساتھ زمانے- کب سے!

میں کہ قسمت کی لکیریں بھی پڑھا کرتا تھاکوئی آیا ہی نہیں ہاتھ دکھانے کب سے

نعمتیں ہیں نہ عذابوں کا تسلسل اب تو!مجھ سے رُخ پھیر لیا میرے خدا نے کب سے

جان چھٹرکتے تھے کبھی خود سے غزالاں جن پربھول بیٹھے ہیں شکاری وہ نشانے کب سے

وہ تو جنگل سے ہواؤں کو چُرا لاتا تھااُس نے سیکھے ہیں دیے گھر میں جلانے کب سے؟

شہر میں پرورشِ رسمِ جنوں کون کرے؟یوں بھی جنگل میں یاروں کے ٹھکانے کب سے؟

آنکھ رونے کو ترستی ہے تو دل زخموں کوکوئی آیا ہی نہیں احسان جتانے کب سے

جن کے صدقے میں بسا کرتے تھے اُجڑے ہوئے لوگلُٹ گئے ہیں سرِ صحرا وہ گھرانے کب سے

لوگ بے خوف گریباں کو کُھلا رکھتے ہیںتِیر چھوڑا ہی نہیں دستِ قضا نے کب سے

جانے کب ٹوٹ کے برسے گی ملامت کی گھٹا؟سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں دِوانے کب سے

جن کو آتا تھا کبھی حشر جگانا محسنبختِ خفتہ کو نہ آئے وہ جگانے کب سے!

— محسن نقوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں