10 اشعار

شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی

Shab dhali chand bhi nikle to sahi

شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی

«شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے حرم شاہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہیدرد جو دل میں ہے چمکے تو سہی

ہم وہیں پر بسا لیں خود کووہ کبھی راہ میں روکے تو سہی

مجھے تنہائیوں کا خوف کیوں ہےوہ مرے پیار کو سمجھے تو سہی

وہ قیامت ہو ،ستارہ ہوکہ دلکچھ نہ کچھ ہجر میں ٹوٹے تو سہی

سب سے ہٹ کر منانا ہے اُسےہم سے اک بار وہ روٹھے تو سہی

اُس کی نفرت بھی محبت ہو گیمیرے بارے میں وہ سوچے تو سہی

دل اُسی وقت سنبھل جائے گادل کا احوال وہ پوچھے تو سہی

اُس کے قدموں میں بچھا دوں آنکھیںمیری بستی سے وہ گزرے تو سہی

میرا جسم آئینہ خانہ ٹھہرےمیری جانب کبھی دیکھے تو سہی

اُس کے سب جھوٹ بھی سچ ہیں محسنشرط اتنی ہے کہ، بولے تو سہی

— محسن نقوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں