10 اشعار

اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھا

Ik main hi sar-nigoon to na paspaiyon mein tha

اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھا

«اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھاوہ مہرِنیم روز بھی پرچھائیوں میں تھا

اوپر جمی ہوئی تھیں تہیں رسمیات کیپانی تعلقات کا گہرائیوں میں تھا

یہ کس کے سوگ میں تھے کھلے سر چھتوں پہ لوگماتم یہ کس کی موت کا انگنائیوں میں تھا

وہ سنگ باریوں سے بچاتا بھی کیا مجھےغیروں کیساتھ وہ بھی تماشائیوں میں تھا

جتنی ہی تیز جھوٹ کے ہونٹ پہ تھی مٹھاساتنا ہی تلخ زہر بھی سچائیوں میں تھا

اس دشت میں تھا اندھا کنواں ہی مِرا نصیبکچھ فرق دشمنوں نہ سگے بھائیوں میں تھا

وہ لاکھ ابھر کے بھی تو رہا دوسروں کا عکسمیں ڈوب کر بھی اپنی ہی پرچھائیوں میں تھا

پنہاں تھی غم کی لہر سی موجِ نشاط میںہلکا سا سوزِ درد بھی شہنائیوں میں تھا

پھر بھی نہ جانے ہو گیا دشمن زمانہ کیوںمیں تو برائیوں میں نہ اچھائیوں میں تھا

محسن وہ زہر پھیل گیا سطح پر بھی ابکل تک جو صرف ذہن کی گہرائیوں میں تھا

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں