6 اشعار

رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے

Raste Mein Khaak Ho Ke Bikhrna Zaroor Hai

رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے

«رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہےمنزل تک اس عمل سے گزرنا ضرور ہے

جو سیڑھیاں لگا کے فلک پر پہنچ گئےاک دن زمیں پہ ان کو اترنا ضرور ہے

تنکوں سے چاہے لوگ نشیمن بنا بھی لیںتنکوں کو آندھیوں میں بکھرنا ضرور ہے

جی چاہتا تھا چلتے رہیں راستے کے ساتھمنزل اب آ گئی تو ٹھہرنا ضرور ہے

کتنا ہی سطح آب انہیں روکتی رہےموجوں کو اپنی تہ سے ابھرنا ضرور ہے

محسنؔ شکست و ریخت ہے تعمیر ہی کا رخبننا جسے ہے اس کو بکھرنا ضرور ہے

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں