8 اشعار

کون اس تیغ ستم گر سے بچا

Kaun Is Tegh-e-Sitamgar Se Bacha

کون اس تیغ ستم گر سے بچا

«کون اس تیغ ستم گر سے بچا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

کون اس تیغ ستم گر سے بچاجو بچا اپنے مقدر سے بچا

صاف انکار ہی بہتر ہے کہ میںزحمت عرض مکرر سے بچا

لے نہ ڈوبیں مری موجیں مجھ کوآ مجھے میرے سمندر سے بچا

جس کو آئینہ بنانا ہو تجھےایسے پتھر کو مرے سر سے بچا

راستے میں مجھے منزل نہ ملییہ بھی اچھا ہوا ٹھوکر سے بچا

آشیاں شاخ ہوا پر اس کامیرے ٹوٹے ہوئے شہ پر سے بچا

محبس ذات سے باہر لے چلمجھ کو اس گنبد بے در سے بچا

میں جو محسنؔ ہوا مجروح تو کیاوہ بھی کب وقت کے خنجر سے بچا

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں