اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھا
کلام: محسن زیدی
اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھاوہ مہرِنیم روز بھی پرچھائیوں میں تھا
اوپر جمی ہوئی تھیں تہیں رسمیات کیپانی تعلقات کا گہرائیوں میں تھا
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھاوہ مہرِنیم روز بھی پرچھائیوں میں تھا
اوپر جمی ہوئی تھیں تہیں رسمیات کیپانی تعلقات کا گہرائیوں میں تھا
میرے قلم نے نہ باطل کا تذکرہ لکھامآل کچھ بھی ہو حرفِ حق سدا لکھا
وہ اک فریب تھا سجدہ جسے کہا اس نےوہ ایک عرضِ غرض تھی جسے دعا لکھا