7 اشعار

میری طرح رات کو غزلیں کہا کرو

Meri tarah raat ko ghazlen kaha karo

میری طرح رات کو غزلیں کہا کرو

«میری طرح رات کو غزلیں کہا کرو» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

میری طرح رات کو غزلیں کہا کروتنہائیوں میں آپ سے باتیں کیا کرو

جتنا بھی دل ہو چاک سویرے سے شام تکتار ِنفس سے رات گۓ سی لیا کرو

دیوار و در کے بیچ ہی گُھٹ گُھٹ کے رہ نہ جاؤگھر سے نکل کے دشت میں گھوما پھرا کرو

کیا جا کے پتھروں کو سناؤ گے اپنی باتجو بات بھی ہو خود سے ہی کہہ سن لیا کرو

بے چہرگی کے دشت میں پہچان کیا بتاؤںجیسے ملے ہوا سے ہوا،آ ملا کرو

یا پھینک دو اتار کے شیشے کا پیرہنیا پتھروں سے سوچ سمجھ کے ملا کرو

محسنؔ کبھی جو لفظوں سے اڑنے لگیں شرارکچھ شعلہء خیال کو نم کر لیا کرو

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں