میں ایک حرف معانی کا ایک دفتر وہ
کلام: محسن زیدی
میں ایک حرف معانی کا ایک دفتر وہمیں ایک موج سراب جو سمندر وہ
تمام ثابت و سیار اس کے حلقہ بگوشیہ کائنات ہے اک دائرہ تو محور وہ
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
میں ایک حرف معانی کا ایک دفتر وہمیں ایک موج سراب جو سمندر وہ
تمام ثابت و سیار اس کے حلقہ بگوشیہ کائنات ہے اک دائرہ تو محور وہ
میری طرح رات کو غزلیں کہا کروتنہائیوں میں آپ سے باتیں کیا کرو
جتنا بھی دل ہو چاک سویرے سے شام تکتار ِنفس سے رات گۓ سی لیا کرو