9 اشعار

رہنے دو اک دو گھڑی دیوار و در کے سامنے

Rehne Do Ik Do Ghadi Deewar O Dar Ke Saamne

رہنے دو اک دو گھڑی دیوار و در کے سامنے

«رہنے دو اک دو گھڑی دیوار و در کے سامنے» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

رہنے دو اک دو گھڑی دیوار و در کے سامنےایک مدت بعد آیا ہوں میں گھر کے سامنے

تم کو دعویٰ ہے کہ تم پتھر ہو میں کہتا ہوں مومفیصلہ ہو جائے گا آؤ شرر کے سامنے

ایک قاتل جو مشابہ میری ہی صورت سے تھاقتل مجھ کو کر گیا میری نظر کے سامنے

اب سر منظر سمندر ہے لہو کا اور میںہٹ گیا کوئی عقب میں مجھ کو کر کے سامنے

آسماں سطح زمیں سے اب نظر آتا نہیںسر سے بھی اونچی ہے اک دیوار سر کے سامنے

پی رہا ہوں شام سے اپنی شکستوں کا لہویاس رکھتی جا رہی ہے جام بھر کے سامنے

میں نے دیکھا آئنے کو عکس میں چھپتے ہوئےیہ تماشا بھی ہوا میری نظر کے سامنے

نقطۂ آغاز پر ہر بار لوٹ آتا ہوں میںراستہ ہی ختم ہے ہر رہ گزر کے سامنے

بہہ گئے محسنؔ تن آور پیڑ بھی سیلاب میںچند تنکوں کی حقیقت کیا شجر کے سامنے

— محسن زیدی