9 اشعار

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

aankhon se haya Tapke hai andaaz to dekho

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

«آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن» میں 28 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھوہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو

اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرااس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو

چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصحطرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو

ارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلےکم طالعی عاشق جاں باز تو دیکھو

مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہبدنامیٔ عشاق کا اعزاز تو دیکھو

محفل میں تم اغیار کو دز دیدہ نظر سےمنظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپکشعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسواس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو

جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سےجور اجل تفرقہ پرداز تو دیکھو

— مومن خان مومن

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں