آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
کلام: مومن خان مومن
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھوہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو
اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرااس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو
جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن
مہمان شاعر: مومن خان مومن
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھوہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو
اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرااس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو
ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہمپر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم
ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہممنہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم