15 اشعار

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

asar usko zara nahin hota

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

«اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا» مومن خان مومن کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن» میں 28 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتا

بے وفا کہنے کی شکایت ہےتو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا

ذکر اغیار سے ہوا معلومحرف ناصح برا نہیں ہوتا

کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیکجنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئےورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

اس نے کیا جانے کیا کیا لے کردل کسی کام کا نہیں ہوتا

امتحاں کیجیے مرا جب تکشوق زور آزما نہیں ہوتا

ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہےتجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا

آہ طول امل ہے روز فزوںگرچہ اک مدعا نہیں ہوتا

تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

حال دل یار کو لکھوں کیوں کرہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

رحم کر خصم جان غیر نہ ہوسب کا دل ایک سا نہیں ہوتا

دامن اس کا جو ہے دراز تو ہودست عاشق رسا نہیں ہوتا

چارۂ دل سوائے صبر نہیںسو تمہارے سوا نہیں ہوتا

کیوں سنے عرض مضطر مومنؔصنم آخر خدا نہیں ہوتا

— مومن خان مومن

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں