مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے
کلام: مومن خان مومن
مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلےاپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے
اِک نظر دیکھ لوُں آجاؤ قضا سے پہلےتم سے مِلنے کی تمنّا ہے خُدا سے پہلے
جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن
مہمان شاعر: مومن خان مومن
مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلےاپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے
اِک نظر دیکھ لوُں آجاؤ قضا سے پہلےتم سے مِلنے کی تمنّا ہے خُدا سے پہلے
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتا
بے وفا کہنے کی شکایت ہےتو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاپر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ناصح یہ گلہ کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتاتو کب مری سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا