5 اشعار

سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو

Samajhaen kis tarah dil na-karda kaar ko

سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کویہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کو

نکلا چمک کے مہر قیامت بھی اور ہمبیٹھے رہے چھپائے دل داغ دار کو

ساقی نہ مے نہ جام نہ مینا نہ میکدہآمد بہار کی ہو مبارک بہار کو

کیا کیا بگاڑ میں بھی ادائیں ہیں دل فریبکتنے بناؤ آتے ہیں گیسوئے یار کو

ناصح کا امتحان مبارکؔ ہو ایک دنتھوڑی پلا کے دیکھیے اس ہوشیار کو

— مبارک عظیم آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں