6 اشعار

میرے سر سے کیا غرض سرکار کو

Mere sar se kya gharaz sarkar ko

میرے سر سے کیا غرض سرکار کودیکھیے اپنے در و دیوار کو

یہ گھٹا ایسی گھٹا اتنی گھٹامے حلال ایسے میں ہے مے خوار کو

دھمکیاں دیتے ہو کیا تلوار کیہم لگاتے ہیں گلے تلوار کو

اپنی اپنی سب دکھاتے ہیں بہارگل بھی گلشن سے چلے بازار کو

طاق سے مینا اتار آئی بہارطاق پر رکھ شیخ استغفار کو

ڈھونڈھتا پھرتا ہے کوئے غیر میںدل مبارکؔ کو مبارکؔ یار کو

— مبارک عظیم آبادی