9 اشعار

جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا

Ji mera mujh se yeh kehta hai ke tal jaunga

جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا

«جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گاہاتھ سے دل کے ترے اب میں نکل جاؤں گا

لطف اے اشک کہ جوں شمع گھُلا جاتا ہوںرحم اے آہِ شرر بار! کہ جل جاؤں گا

چین دینے کا نہیں زیرِ زمیں بھی نالہسوتوں کی نیند میں کرنے کو خلل جاؤں گا

قطرہء اشک ہوں پیارے، مرے نظّارے سےکیوں خفا ہوتے ہو، پل مارتے ڈھل جاؤں گا

اس مصیبت سے تو مت مجھ کو نکال اب گھر سےتُو کہے آج ہی جا، میں کہوں کل جاؤں گا

چھیڑ مت بادِ بہاری کہ میں جوں نکہتِ گُلپھاڑ کر کپڑے ابھی گھر سے نکل جاؤں گا

میری صورت سے تو بیزار ہے ایسا ہی تو دیکھشکل اس غم سے کوئی دن میں بدل جاؤں گا

نطق کہتا ہے مرا آج یہ ہر ناطق سےآن کر ہونٹ ابھی طوطی کے مل جاؤں گا*

کہتے ہیں وہ جو ہے سودا کا قصیدہ ہی خوباُن کی خدمت میں لیے میں یہ غزل جاؤں گا

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں