ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
کلام: محمد رفیع سودا
ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کاموسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا
پڑھیے درود حسن صبیح و ملیح پرجلوہ ہر ایک پر ہے محمد کے نور کا
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا
مہمان شاعر: محمد رفیع سودا
ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کاموسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا
پڑھیے درود حسن صبیح و ملیح پرجلوہ ہر ایک پر ہے محمد کے نور کا
آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مِل بناکچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دِل بنا
سرگرمِ نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیبمت آشیاں چمن میں مرے متّصِل بنا