5 اشعار

دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار

Dhoom se sunte hain ab ki saal aati hai bahar

دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار

«دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہاردیکھیے کیا کچھ ہمارے سر پہ لاتی ہے بہار

شاید عزم یار کی گلشن میں پہنچی ہے خبرگل کے پیراہن میں پھولی نئیں سماتی ہے بہار

دیکھنے دے باغباں اب گلستاں اپنا مجھےحلقۂ زنجیر میں مہماں بلاتی ہے بہار

شور یہ غنچوں کے واشد کا نہیں اے عندلیباب چمن میں طمطراق اپنا دکھاتی ہے بہار

کیوں پھنسا گلشن میں یوں جا کر عبث سودا تو ابمیں نہ کہتا تھا تجھے وہ دیکھ آتی ہے بہار

— محمد رفیع سودا