4 اشعار

بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو

Bahar-e-bagh ho, meena ho, jaam-e-sahba ho

بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو

«بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہوہوا ہو ابر ہو ساقی ہو اور دریا ہو

روا ہے کہہ تو بھلا اے سپہر نا انصافریائے زہد چھپے راز عشق رسوا ہو

بھرا ہے اس قدر اے ابر دل ہمارا بھیکہ ایک لہر میں روئے زمین دریا ہو

جو مہرباں ہیں وہ سوداؔ کو مغتنم جانیںسپاہی زادوں سے ملتا ہے دیکھیے کیا ہو

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں