10 اشعار

غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے

Ghunche se muskura ke use zaar kar chale

غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے

«غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلےنرگس کو آنکھ مار کے بیمار کر چلے

پھرتے ہو باغ سے تو پکارے ہے عندلیبصبح بہار گل پہ شب تار کر چلے

اٹھتے ہوئے جو دیر سے لی مدرسے کی راہتسبیح شیخ شہر کی زنار کر چلے

آئے جو بزم میں تو اٹھا چہرے سے نقابپروانے ہی کو شمع سے بیزار کر چلے

آزاد کرتے تم ہمیں قید حیات سےاس کے عوض جو دل کو گرفتار کر چلے

اٹھ کر ہمارے پاس سے گھر تک رقیب کےپہنچے گا وہ کوئی جو ہمیں مار کر چلے

لو خوش رہو گھر اپنے میں جس شکل سے ہو تمدو چار نالے ہم پس دیوار کر چلے

اندوہ و درد و غم نے کیا عزم جب ادھرہم کو عدم سے قافلہ سالار کر چلے

سوداؔ نے اپنے خوں کی دیت تم سے یک نگاہچاہی تو اتنی بات سے انکار کر چلے

پیارے خدا کے واسطے ٹک اپنے دل کے بیچانصاف تو کرو یہ کسے مار کر چلے

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں