9 اشعار

ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو

Naseh ko jaib seene se fursat kabhu na ho

ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو

«ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہودل یار سے پھٹے تو کسی سے رفو نہ ہو

اس دل کو دے کے لوں دو جہاں یہ کبھو نہ ہوسودا تو ہووے تب یہ کہ جب اس میں تو نہ ہو

آئینۂ وجود عدم میں اگر تراوہ درمیاں نہ ہو تو کہیں ہم کو رو نہ ہو

جھگڑا تو حسن و عشق کا چکتا ہے پل کے بیچگر محکمے میں قاضی کے تو روبرو نہ ہو

قطرہ کی کھل گئی ہے گرہ ورنہ اے نسیمشور دماغ مرغ چمن گل کی بو نہ ہو

گزرے سو گزرے اہل زمیں اوپر اے فلکآئندہ یاں تلک تو کوئی خوب رو نہ ہو

دل لے کے تجھ سے برق کے شعلے کو دیجیےپر ہے یہ ڈر کہ اس کی بھی ایسی ہی خو نہ ہو

گل کی نہ تخم مرغ چمن کر سکے تلاشہم خام فطرتوں سے تری جستجو نہ ہو

سوداؔ بدل کے قافیہ تو اس غزل کو کہہاے بے ادب تو درد سے بس دوبدو نہ ہو

— محمد رفیع سودا