کس سے بیاں کیجئے؟ حال دلِ تباہ کا،
کس سے بیاں کیجئے؟ حال دلِ تباہ کا،سمجھے وہی اسے جو ہو زخمی تیری نگاہ کا
مجھ کو تیری طلب ہے یار تجھ کو ہے چاہ غیر کیاپنی نظر میںیاں نہیں طور کوئی نباہ کا
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا
مہمان شاعر: محمد رفیع سودا
کس سے بیاں کیجئے؟ حال دلِ تباہ کا،سمجھے وہی اسے جو ہو زخمی تیری نگاہ کا
مجھ کو تیری طلب ہے یار تجھ کو ہے چاہ غیر کیاپنی نظر میںیاں نہیں طور کوئی نباہ کا
وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیںاب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
آیا تھا کیوں عدم میں کیا کر چلا جہاں میںیہ مرگ و زیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں
دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیاسخت مہم تھی کہ وہ سر کر گیا
وہم غلط کار نے دل خوش کیاکس پہ نہ جانے وہ نظر کر گیا
جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کاسر نظر آتا نہیں دھڑ پر مجھے دو چار کا
دیکھتا ہوں یار میں جس گھر میں تجھ کو جلوہ گرمہر کو واں حکم ہے خارِسرِدیوار کا
ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگاخدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا
نہ دو ترجیح اے خوباں کسی کو مجھ پہ ٖغربت میںزیادہ مجھ سے کوئی بے کس و ناکام کیا ہو گا
دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیں
وہ راہ بدلتے ہیں اپنی اور مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہیںلیکن وہ دلوں کو یادوں کی خوشبو بن کر مہکاتے ہیں