9 اشعار

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

Jab yaar ne utha kar zulfon ke baal baandhe

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

«جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھےتب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے

دو دن میں ہم تو ریجھے اے وائے حال ان کاگزرے ہیں جن کے دل کو یاں ماہ و سال باندھے

تار نگہ میں اس کے کیونکر پھنسے نہ یہ دلآنکھوں نے جس کے لاکھوں وحشی غزال باندھے

جو کچھ ہے رنگ اس کا سو ہے نظر میں اپنیگو جامہ زرد پہنے یا چیرہ لال باندھے

تیرے ہی سامنے کچھ بہکے ہے میرا نالہورنہ نشانے ہم نے مارے ہیں بال باندھے

بوسہ کی تو ہے خواہش پر کہیے کیونکہ اس سےجس کا مزاج لب پر حرف سوال باندھے

ماروگے کس کو جی سے کس پر کمر کسی ہےپھرتے ہو کیوں پیارے تلوار ڈھال باندھے

دو چار شعر آگے اس کے پڑھے تو بولامضموں یہ تو نے اپنے کیا حسب حال باندھے

سوداؔ جو ان نے باندھا زلفوں میں دل سزا ہےشعروں میں اس کے تو نے کیوں خط و خال باندھے

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں