7 اشعار

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

Gul phenke hai auron ki taraf balki samar bhi

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

«گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھیاے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

کیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہکافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی

اے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارےتجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لخت جگر بھی

اے نالہ صد افسوس جواں مرنے پہ تیرےپایا نہ تنک دیکھنے تیں روئے اثر بھی

کس ہستئ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یارکچھ اپنے شب و روز کی ہے تج کو خبر بھی

تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوشرہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی

سوداؔ تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی راتآئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی

— محمد رفیع سودا