کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھے
کلام: محمد رفیع سودا
کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھےجو گزرے صید کے جی پر، اسے شہباز کیا سمجھے
رِہا کرنا ہمیں صیّاد اب پامال کرنا ہےپھڑکنا بھی جسے بھولا ہو سو پرواز کیا سمجھے
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا
مہمان شاعر: محمد رفیع سودا
کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھےجو گزرے صید کے جی پر، اسے شہباز کیا سمجھے
رِہا کرنا ہمیں صیّاد اب پامال کرنا ہےپھڑکنا بھی جسے بھولا ہو سو پرواز کیا سمجھے
گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیںہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں
نہ دیکھا جو کچھ جام میں جم نے اپنےسو یک قطرۂ مے میں ہم دیکھتے ہیں
آدمؑ کو جب تخلیق کیا گیاتو مٹی میں فقط قالب نہیں ڈالا گیا،
اس میں تنہائی کی ایک خاموش صدا بھی رکھ دی گئی۔فرشتے سجدے میں تھے،