7 اشعار

صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا

Sadma har chand tere jaur se jaan par aaya

صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا

«صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

صدمہ ہر چند ترے جور سے جاں پر آیاتس پہ شکوہ نہ کبھی میری زباں پر آیا

راست کیشوں کی تف آہ سے ڈر اے سرکشتیر پھرتا نہیں جس وقت نشاں پر آیا

موسم شیب میں بے فائدہ ہے لعب شبابکب ثمر دیوے ہے جو نخل خزاں پر آیا

دل پر خوں کو مرے غنچۂ تصویر کی طرحلب وا شد نہ کبھی راز نہاں پر آیا

چشم انجم پہ نہیں ابر سے وہ روز سیاہجو مرے دیدۂ خوں ناب چکاں پر آیا

رات کو دیکھ کے اے ماہ تجھے غیر کے ساتھطعنہ زن دل کا مرے گل کے کتاں پر آیا

ہو کے استاد دبستان سخن میں سوداؔشعر کے قاعدہ دانان جہاں پر آیا

— محمد رفیع سودا