7 اشعار

ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت

Hasti ko teri bas hai miyan gul ki isharat

ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت

«ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارتکافی ہے مرے نالے کو بلبل کی اشارت

فتویٰ طلب اے یار نہ قاضی سے کروں میںتوبہ شکنی کو ہے مری مل کی اشارت

مل بیٹھ میری آنکھوں میں ہے ساعت نیک آجیہ چشم ترازو ہیں ترے تل کی اشارت

ہے باعث جمعیت دل ایک جہاں کیاے شوخ پریشانیٔ کاکل کی اشارت

تقویٰ کے نہیں بار سے قد خم ترا اے شیخاک خلق میں مشہور ہے اس پل کی اشارت

یاد آئے تری زلف نہ مجھ کو جو چمن میںدے تاب مرے دل کو نہ سنبل کی اشارت

عشاق کو تجھ چشم کے حاجت نہیں مے کیبے ہوش کرے سوداؔ کو قلقل کی اشارت

— محمد رفیع سودا