7 اشعار

یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش

Yun dekh mere deeda par aab ki gardish

یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش

«یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردش» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

یوں دیکھ مرے دیدۂ پر آب کی گردشدریا میں ہو جس طرح سے گرداب کی گردش

مرتا ہوں ترے واسطے روتا ہوں زبس یارہے سیل مری چشم میں گرداب کی گردش

پھر جاتی ہیں اس طرح سے اک پل میں وہ انکھیاںجوں بزم میں ہو جام مئے ناب کی گردش

ازبسکہ ہے آنکھوں میں خمار اس گھڑی ساقیمے مانگے ہے تجھ سے جو ہر احباب کی گردش

گو خاک ہوا تو بھی پھرا بن کے بگولاہو کر نہ گئی عاشق بیتاب کی گردش

جنس خرد و صبر بن اس دل کو ہو کیا چینمفلس کو بری ہوتی ہے اسباب کی گردش

دل زلف و رخ یار میں سوداؔ نہ پھرے کیوںخوش آئے ہے اس کو شب مہتاب کی گردش

— محمد رفیع سودا