7 اشعار

کسی بت کی ادا نے مار ڈالا

Kisi but ki ada ne maar dala

کسی بت کی ادا نے مار ڈالا

«کسی بت کی ادا نے مار ڈالا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

کسی بت کی ادا نے مار ڈالابہانے سے خدا نے مار ڈالا

جفا کی جان کو سب رو رہے ہیںمجھے ان کی وفا نے مار ڈالا

جدائی میں نہ آنا تھا نہ آئیمجھے ظالم قضا نے مار ڈالا

مصیبت اور لمبی زندگانیبزرگوں کی دعا نے مار ڈالا

انہیں آنکھوں سے جینا چاہتا ہوںجن آنکھوں کی حیا نے مار ڈالا

ہمارا امتحاں اور کوئے دشمنکسی نے بے ٹھکانے مار ڈالا

پڑا ہوں اس طرح اس در پہ مضطرؔکوئی دیکھے تو جانے مار ڈالا

— مضطر خیرآبادی